Welcome
Sunday, 18 September 2011
NOORAIN ALI HAQUE: مودی کا اپواس مضحکہ خیز اور ایک ڈھونگ
NOORAIN ALI HAQUE: مودی کا اپواس مضحکہ خیز اور ایک ڈھونگ: نورین علی حق مودی کے سیاسی برت پر زیادہ تر سیاسی لیڈران کی رائے سے ہم محظوظ ہوچکے ہیں ۔آج کے اخبارات میں برت پر اچھا خاصا مواد اکٹھا ہوگی...
مودی کا اپواس مضحکہ خیز اور ایک ڈھونگ
نورین علی حق
مودی کے سیاسی برت پر زیادہ تر سیاسی لیڈران کی رائے سے ہم محظوظ ہوچکے ہیں ۔آج کے اخبارات میں برت پر اچھا خاصا مواد اکٹھا ہوگیا ہے ۔ہندو ازم میں برت کا جو تصور ہے شاید مودی کے برت رکھنے سے وہ تصور بھی مجروح ہوا ہے۔مودی کے جرائم اتنےزیادہ اور سنگین ہیں کہ اسے برت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔خواہ میڈیا اس برت کی جتنی تشہیر کرلے اور احساس دلائے کہ مودی بنیادی طور پر بے قصور تھے او ر انہیں خواہ مخواہ کٹہرے میں کھڑا کیا جارہاتھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی ضمیر سب سے بڑا جج ہوتا ہے ۔ وہ وقتا فوقتا مجرم کو احساس ندامت کراہی دیتا ہے ۔یہ بھی طے ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے وزارت عظمی کے عہدہ پر وہ فائز نہیں ہوسکتا ۔وہ یہ بھول رہا ہےکہ انسان مجبور ہوکر بہت سے کام تو کرلیتا ہے مگر وہ خوشی اسی کام میں محسوس کرتا ہے ۔جو وہ آزادی کے ساتھ کرتا ہے ۔ٹی وی چینلوں نے مسلم خواتین اور مردوں کو بھی مودی کے اسٹیج پر دکھایا اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ مسلمان گجرات واقعات کو بھول چکے ہیں ،خون کا ایک ایک قطرہ مسلمانوں کویاد ہے اور وہ وقت کے منتظر ہیں ،ابھی مودی جتنا چاہے برت رکھ لے الیکشن میں وہ زمین چاٹنے پر ضرور مجبور ہوجائے گا
جہاں تک شاہ نواز حسین کے معافی نامے کے ساتھ گجرات جانے کی بات ہے تو وہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ بی جے پی کے زرخرید غلام ہیں ان کا کوئی عمل مسلمانوں کے لئے لائق تقلید نہیں ہے ۔وہ بھی اگر مودی کی پوجا کرنے لگیں جب بھی یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ مسلمانوں نے مودی کو معاف کردیا ہے ۔عدالتیں گواہوں کی گواہی پر فیصلے صادر کیا کرتی ہیں اور مودی نے سارے ثبوت کانگریس کی تساہلی اور چشم پوشی کی وجہ سے مٹا دیا ہے ۔اس لئے بہت ممکن ہے کہ وہ عدالت سے بری کردیا جائے ۔اس کے باوجود ہر انصاف پسند کے دل میں وہ مجرم ہی رہے گا ۔
alihaqnrn@yahoo.com
مودی کے سیاسی برت پر زیادہ تر سیاسی لیڈران کی رائے سے ہم محظوظ ہوچکے ہیں ۔آج کے اخبارات میں برت پر اچھا خاصا مواد اکٹھا ہوگیا ہے ۔ہندو ازم میں برت کا جو تصور ہے شاید مودی کے برت رکھنے سے وہ تصور بھی مجروح ہوا ہے۔مودی کے جرائم اتنےزیادہ اور سنگین ہیں کہ اسے برت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔خواہ میڈیا اس برت کی جتنی تشہیر کرلے اور احساس دلائے کہ مودی بنیادی طور پر بے قصور تھے او ر انہیں خواہ مخواہ کٹہرے میں کھڑا کیا جارہاتھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسانی ضمیر سب سے بڑا جج ہوتا ہے ۔ وہ وقتا فوقتا مجرم کو احساس ندامت کراہی دیتا ہے ۔یہ بھی طے ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کے وزارت عظمی کے عہدہ پر وہ فائز نہیں ہوسکتا ۔وہ یہ بھول رہا ہےکہ انسان مجبور ہوکر بہت سے کام تو کرلیتا ہے مگر وہ خوشی اسی کام میں محسوس کرتا ہے ۔جو وہ آزادی کے ساتھ کرتا ہے ۔ٹی وی چینلوں نے مسلم خواتین اور مردوں کو بھی مودی کے اسٹیج پر دکھایا اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ مسلمان گجرات واقعات کو بھول چکے ہیں ،خون کا ایک ایک قطرہ مسلمانوں کویاد ہے اور وہ وقت کے منتظر ہیں ،ابھی مودی جتنا چاہے برت رکھ لے الیکشن میں وہ زمین چاٹنے پر ضرور مجبور ہوجائے گا
جہاں تک شاہ نواز حسین کے معافی نامے کے ساتھ گجرات جانے کی بات ہے تو وہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ بی جے پی کے زرخرید غلام ہیں ان کا کوئی عمل مسلمانوں کے لئے لائق تقلید نہیں ہے ۔وہ بھی اگر مودی کی پوجا کرنے لگیں جب بھی یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ مسلمانوں نے مودی کو معاف کردیا ہے ۔عدالتیں گواہوں کی گواہی پر فیصلے صادر کیا کرتی ہیں اور مودی نے سارے ثبوت کانگریس کی تساہلی اور چشم پوشی کی وجہ سے مٹا دیا ہے ۔اس لئے بہت ممکن ہے کہ وہ عدالت سے بری کردیا جائے ۔اس کے باوجود ہر انصاف پسند کے دل میں وہ مجرم ہی رہے گا ۔
alihaqnrn@yahoo.com
Monday, 12 September 2011
NOORAIN ALI HAQUE: ہند۔پاک دہشت گردی کے نشانے پر
NOORAIN ALI HAQUE: ہند۔پاک دہشت گردی کے نشانے پر: ہند۔پا ک کے موجودہ حالات کیا دونوں ممالک کو مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور نہیں کرتے ؟ نورین علی حق معمول کے ...
ہند۔پاک دہشت گردی کے نشانے پر
ہند۔پاک کے موجودہ حالات کیا دونوں ممالک کو مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور نہیں کرتے ؟
نورین علی حق
معمول کے مطابق ایک بار پھر ہندوستان اور پاکستان دونوں بم دھماکے سے دہل گئے ہیں اور روایت کے مطابق دونوں ممالک کی پولیس دھماکوں کے بعد متحرک ہوگئی ہے ۔ان دھماکوں پر مختلف ممالک اور قومی لیڈران کی سخت ترین الفاظ میں مذمتیں بھی آچکی ہیں ۔لیکن دنیا بھر کے دماغ مل کر بھی دہشت گردی کے سد باب کے لئے کوئی مشترکہ اورمستحکم لائحہ عمل اب تک طے نہیں کرسکے ہیں ،حالاں کہ عوام کی قوت برداشت جواب دینے کو ہے ۔دونوں ہی ملکوں کے عوام کی سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ان بے قصوروں کا گناہ کیا ہے اور انہیں کس جرم کی سزادی جارہی ہے ؟
اس کے برعکس حکومتی افراد اور تفتیشی ایجنسیاں ان کی بے تابیوں اور پریشانیوں کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔جب بھی دھماکے ہوتے ہیں الزامات ایک دوسرے پر منڈھ دیے جاتے ہیں یا کسی نتیجہ تک پہنچنے سے پیشتر ہی صرف عوام کی تسلی کے لئے چند داڑھی والوں کے خاکے جاری کر دیے جاتے ہیں ۔اس پر طرہ یہ کہ کسی کاکھل کر نام بھی نہیں لیا جاتا ،بلکہ ٹی وی اسکرین پر ایسی تصاویر جاری کردی جاتی ہیں جن سے صاف ہوجاتا ہےکہ اس دھماکے میں بھی مسلمان شامل ہیں۔ ایسی صورت حال پر اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
جب جب ہمارے ملک میں دھماکے ہوتے ہیں، ہمارے سیاسی رہنما بیان دے کر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور تفتیشی ایجنسیوں کو کوئی میل مل جاتی ہے، جس پر تکیہ کرلیا جاتا ہے کہ اسی تنظیم نے دھماکہ کیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل بھی متعدد بار دھماکوں کے بعد ای میل کے ذریعہ دہشت گردوں کے پیغامات آتے رہے ہیں اور جب اس کی تہہ تک ایجنسیاں پہنچی ہیں تو شکوک و شبہات کے سارے بند دریچے میں دھماکوں کا عوام و خواص کو احساس ہوا ہے کہ جن تنظیموں، اداروں اور افراد کو وہ محب وطن، مذہبی اور بے داغ شخصیات سمجھتے رہے ہیں، وہی ان دھماکوں میں ملوث ہیں۔ عرصہ پہلے جب اجمیر شریف کی درگاہ میں دھماکہ ہوا تھا تو ملک کے دیگر طبقوں کے ساتھ مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ تھا جو صاف طور پر ایک مسلم گروہ کو ہی نشانہ بنا رہا تھا، لیکن جب اس دھماکے کی پرتیں کھلیں تو باشندگان ملک کو جس طرح کی پشیمانی کا سامنا رہا، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، چونکہ ہندوستان کی اکثریت مسلمانوں کی مخالف اور ان سے بدگمان تو ہوسکتی ہے، مگر خواجہ ہند کے دربار میں دہشت گردانہ حملہ کو برداشت نہیں کرسکتی، گوکہ اس وقت بھی شاید کسی’ حرکت‘ کی جانب سے اس مذموم حرکت کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ اس طرح کی مثالوں کے عیاں ہوجانے کے باوجود بار بارثبوت کے بغیر کسی مسلم نام کی تنظیم کو ٹی وی اسکرین پر دکھانے اور اس سے ماقبل کے تمام دھماکوں کو اس سےجوڑنے کا مقصد ملک کی اقلیت کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا ہے۔اب اس طرح کی تسلیوں اور دھند میں لپٹی کامیابیوں سے عوام مطمئن اور شادماں نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ہمارے سیاسی لیڈران کی سیاسی اور رسمی مذمت سے عوام کی متاع گم گشتہ واپس انہیں ملتی ہے۔
وزارت داخلہ کے ذمہ داران اور این آئی اے کے ڈائرکٹر سے انٹر ویو کے دوران چینلز والےیہ سوال کرنے سے بھی نہیں چوکتے کہ کیا اس میں’ ہوجی‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے ؟جب کہ معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر ہوم سکریٹری نے جوجواب دیا وہ بہت ہی محتاط اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے والا تھا ،انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہوسکتا ہے لیکن فی الوقت ہم کسی کو نشان زد نہیں کرسکتے ۔ایسے نازک حالات میں اس طرح کے سوالات ظاہر ہے کہ آگ پر گھی کا کام کرنے والےہوتے ہیں ۔اس لئے آج یہ بھی ضروری ہوگیا ہے کہ موجودہ الیکٹرانک میڈیا کا باریک بینی سے معائنہ کرکے اس کی بے لگامی پر لگام لگایا جائے ورنہ آئندہ اس طرح کے سوالات سے فرقہ وارانہ فسادات پھیلنے کا خدشہ ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھماکوں کےچند گھنٹوں بعد آپ خاکے بھی جاری کردیتے ہیں اور آپ کو سراغ رسانی کی راہیں بھی ہموار دکھائی دینے لگتی ہیں۔
ڈھونگ رچنے کا سلسلہ بہت دراز ہوچکا، اب عوام کو جھوٹی تسلیوں کی چنداں ضرورت نہیں ہے، نہ گڈکری جیسے مفاد پرست لیڈر کی جو عوامی خون اور لوتھڑے پر بھی سیاست سے باز نہیں آتے۔ ایسے موقع پر جب انہیں عوام کے آنسو پونچھنے چاہئیں، وہ وزیرداخلہ پر لفظی حملے کر رہے ہیں۔ اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب کو صرف سیاسی مفاد مقصود ہے اور وہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
دہلی پر ہونے والے گزشتہ تمام دہشت گردانہ حملے کی فہرست اور اس کی تفصیل دیکھی جائے تو ہر فائل اور اس کی تفصیل میں یہ بات موجود ہے کہ فلاں جگہ پر ہوئے حملے سے قبل وہاں کے سی سی ٹی وی کیمرے خراب پڑے تھے۔ پھر اخبارات والے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خراب کیمروں کی فہرست جاری کرتے ہیں، لیکن کافی انتظار کے باوجود انہیں ان کیمروں کی درستگی اور مرمت کی کوئی اطلاع نہیں ملتی۔ جہاں دھماکے ہوتے ہیں، وہاں سیکورٹی فورسز موجود نہیں ہوتیں، آخر ان سوالات کے جوابات کون دے گا اور انتظامیہ کے نقائص کون بیان کرے گا؟ہم دوسروں کی جارحانہ طبیعتوں کا رونا تو خوب روتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں کہ دہشت گردوں نے اگر حملے کیے ہیں تو انہیں زمین فراہم کرنے والے اور ان کے ناپاک عزائم و منصوبے کو یقینی بنانے والے ہم بھی ہیں۔ ہماری کوتاہیوں اور لاپروائیوں کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہوا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ تین سالوں کی مدت میں دہلی ہائی کورٹ کے علاقے میں کیمرے نہیں لگ سکے ۔اس دھماکے کے چشم دید گواہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہاں سیکورٹی والے موجود تھے ہی نہیں ۔
دوسری جانب بعض میڈیا والے اپنے روایتی حریف پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیتے ہیں، جب کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستان سے زیادہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں اور وہاں عوام کےساتھ ساتھ وزرا بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور وہ بھی اپنے روایتی حریف کو مورد الزام ٹھہرانے میں کچھ کم پیچھے نہیں ہیں، لیکن کیا صرف الزامات سے مسئلہ کا حل ہوسکتا ہے؟ کیا یہ اشارے مجبور نہیں کرتے کہ دونوں ممالک ان ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ایک دوسرے سے مزید قربت بڑھا کر شرپسند عناصر کی خواہشات پر پانی پھیر دیں اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں جسمیں کسی تیسرے کی کوئی مداخلت نہ ہو۔یہ تو طے ہے کہ دونوں ممالک میں ہونے والے زیادہ تر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث خود ان کے اپنے ہیں ،پتہ یہ لگانا ہے کہ آخر ان اپنوں کی اپنائیت کو خریدنے والا کون ہے جو دونوں ممالک کے سکون واطمینان کو بھنگ کرکے انہیں آپس میں ہی برسر پیکار دیکھنا چاہتا ہے ۔تاکہ ایشیائی ممالک اس کے دست نگررہیں ،اس کے اسلحوں کی خریدوفروخت بھی جاری رہے اور موقع ملتے ہی وہ الٹا ثواب بھی حاصل کرلے ۔دونوں ممالک بہتر تعلقات کے سایےمیں آگے بڑھیں اور اسے تلاش کریں جو دونوں ہی کے لئے زحمت بنا بیٹھا ہے ۔
خون خواہ پاکستانیوں کا بہے یا ہندوستانیوں کا بہرحال اس کا رنگ ایک ہے ۔اوریہ عمل انسانیت سوز ہے اس کی مذمت کرنی چاہئے ۔لیکن اصل مذمت یہ ہے کہ عوام کو اپنے تحفظ کا یقین ہوجائے اور وہ کشمیر سے کنیا کماری تک بلاخوف وخطر امن وسکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ۔ورنہ سخت ترین الفاظ اور مذمت کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
نورین علی حق
معمول کے مطابق ایک بار پھر ہندوستان اور پاکستان دونوں بم دھماکے سے دہل گئے ہیں اور روایت کے مطابق دونوں ممالک کی پولیس دھماکوں کے بعد متحرک ہوگئی ہے ۔ان دھماکوں پر مختلف ممالک اور قومی لیڈران کی سخت ترین الفاظ میں مذمتیں بھی آچکی ہیں ۔لیکن دنیا بھر کے دماغ مل کر بھی دہشت گردی کے سد باب کے لئے کوئی مشترکہ اورمستحکم لائحہ عمل اب تک طے نہیں کرسکے ہیں ،حالاں کہ عوام کی قوت برداشت جواب دینے کو ہے ۔دونوں ہی ملکوں کے عوام کی سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ان بے قصوروں کا گناہ کیا ہے اور انہیں کس جرم کی سزادی جارہی ہے ؟
اس کے برعکس حکومتی افراد اور تفتیشی ایجنسیاں ان کی بے تابیوں اور پریشانیوں کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔جب بھی دھماکے ہوتے ہیں الزامات ایک دوسرے پر منڈھ دیے جاتے ہیں یا کسی نتیجہ تک پہنچنے سے پیشتر ہی صرف عوام کی تسلی کے لئے چند داڑھی والوں کے خاکے جاری کر دیے جاتے ہیں ۔اس پر طرہ یہ کہ کسی کاکھل کر نام بھی نہیں لیا جاتا ،بلکہ ٹی وی اسکرین پر ایسی تصاویر جاری کردی جاتی ہیں جن سے صاف ہوجاتا ہےکہ اس دھماکے میں بھی مسلمان شامل ہیں۔ ایسی صورت حال پر اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
جب جب ہمارے ملک میں دھماکے ہوتے ہیں، ہمارے سیاسی رہنما بیان دے کر خاموش تماشائی بن جاتے ہیں اور تفتیشی ایجنسیوں کو کوئی میل مل جاتی ہے، جس پر تکیہ کرلیا جاتا ہے کہ اسی تنظیم نے دھماکہ کیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل بھی متعدد بار دھماکوں کے بعد ای میل کے ذریعہ دہشت گردوں کے پیغامات آتے رہے ہیں اور جب اس کی تہہ تک ایجنسیاں پہنچی ہیں تو شکوک و شبہات کے سارے بند دریچے میں دھماکوں کا عوام و خواص کو احساس ہوا ہے کہ جن تنظیموں، اداروں اور افراد کو وہ محب وطن، مذہبی اور بے داغ شخصیات سمجھتے رہے ہیں، وہی ان دھماکوں میں ملوث ہیں۔ عرصہ پہلے جب اجمیر شریف کی درگاہ میں دھماکہ ہوا تھا تو ملک کے دیگر طبقوں کے ساتھ مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ تھا جو صاف طور پر ایک مسلم گروہ کو ہی نشانہ بنا رہا تھا، لیکن جب اس دھماکے کی پرتیں کھلیں تو باشندگان ملک کو جس طرح کی پشیمانی کا سامنا رہا، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا، چونکہ ہندوستان کی اکثریت مسلمانوں کی مخالف اور ان سے بدگمان تو ہوسکتی ہے، مگر خواجہ ہند کے دربار میں دہشت گردانہ حملہ کو برداشت نہیں کرسکتی، گوکہ اس وقت بھی شاید کسی’ حرکت‘ کی جانب سے اس مذموم حرکت کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ اس طرح کی مثالوں کے عیاں ہوجانے کے باوجود بار بارثبوت کے بغیر کسی مسلم نام کی تنظیم کو ٹی وی اسکرین پر دکھانے اور اس سے ماقبل کے تمام دھماکوں کو اس سےجوڑنے کا مقصد ملک کی اقلیت کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا ہے۔اب اس طرح کی تسلیوں اور دھند میں لپٹی کامیابیوں سے عوام مطمئن اور شادماں نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ہمارے سیاسی لیڈران کی سیاسی اور رسمی مذمت سے عوام کی متاع گم گشتہ واپس انہیں ملتی ہے۔
وزارت داخلہ کے ذمہ داران اور این آئی اے کے ڈائرکٹر سے انٹر ویو کے دوران چینلز والےیہ سوال کرنے سے بھی نہیں چوکتے کہ کیا اس میں’ ہوجی‘ کا ہاتھ ہوسکتا ہے ؟جب کہ معاملہ کی نزاکت کے پیش نظر ہوم سکریٹری نے جوجواب دیا وہ بہت ہی محتاط اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے والا تھا ،انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہوسکتا ہے لیکن فی الوقت ہم کسی کو نشان زد نہیں کرسکتے ۔ایسے نازک حالات میں اس طرح کے سوالات ظاہر ہے کہ آگ پر گھی کا کام کرنے والےہوتے ہیں ۔اس لئے آج یہ بھی ضروری ہوگیا ہے کہ موجودہ الیکٹرانک میڈیا کا باریک بینی سے معائنہ کرکے اس کی بے لگامی پر لگام لگایا جائے ورنہ آئندہ اس طرح کے سوالات سے فرقہ وارانہ فسادات پھیلنے کا خدشہ ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھماکوں کےچند گھنٹوں بعد آپ خاکے بھی جاری کردیتے ہیں اور آپ کو سراغ رسانی کی راہیں بھی ہموار دکھائی دینے لگتی ہیں۔
ڈھونگ رچنے کا سلسلہ بہت دراز ہوچکا، اب عوام کو جھوٹی تسلیوں کی چنداں ضرورت نہیں ہے، نہ گڈکری جیسے مفاد پرست لیڈر کی جو عوامی خون اور لوتھڑے پر بھی سیاست سے باز نہیں آتے۔ ایسے موقع پر جب انہیں عوام کے آنسو پونچھنے چاہئیں، وہ وزیرداخلہ پر لفظی حملے کر رہے ہیں۔ اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب کو صرف سیاسی مفاد مقصود ہے اور وہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
دہلی پر ہونے والے گزشتہ تمام دہشت گردانہ حملے کی فہرست اور اس کی تفصیل دیکھی جائے تو ہر فائل اور اس کی تفصیل میں یہ بات موجود ہے کہ فلاں جگہ پر ہوئے حملے سے قبل وہاں کے سی سی ٹی وی کیمرے خراب پڑے تھے۔ پھر اخبارات والے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خراب کیمروں کی فہرست جاری کرتے ہیں، لیکن کافی انتظار کے باوجود انہیں ان کیمروں کی درستگی اور مرمت کی کوئی اطلاع نہیں ملتی۔ جہاں دھماکے ہوتے ہیں، وہاں سیکورٹی فورسز موجود نہیں ہوتیں، آخر ان سوالات کے جوابات کون دے گا اور انتظامیہ کے نقائص کون بیان کرے گا؟ہم دوسروں کی جارحانہ طبیعتوں کا رونا تو خوب روتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں جھانکنا بھول جاتے ہیں کہ دہشت گردوں نے اگر حملے کیے ہیں تو انہیں زمین فراہم کرنے والے اور ان کے ناپاک عزائم و منصوبے کو یقینی بنانے والے ہم بھی ہیں۔ ہماری کوتاہیوں اور لاپروائیوں کی وجہ سے ہی یہ سب کچھ ہوا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ تین سالوں کی مدت میں دہلی ہائی کورٹ کے علاقے میں کیمرے نہیں لگ سکے ۔اس دھماکے کے چشم دید گواہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہاں سیکورٹی والے موجود تھے ہی نہیں ۔
دوسری جانب بعض میڈیا والے اپنے روایتی حریف پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیتے ہیں، جب کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستان سے زیادہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملے ہو رہے ہیں اور وہاں عوام کےساتھ ساتھ وزرا بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور وہ بھی اپنے روایتی حریف کو مورد الزام ٹھہرانے میں کچھ کم پیچھے نہیں ہیں، لیکن کیا صرف الزامات سے مسئلہ کا حل ہوسکتا ہے؟ کیا یہ اشارے مجبور نہیں کرتے کہ دونوں ممالک ان ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ایک دوسرے سے مزید قربت بڑھا کر شرپسند عناصر کی خواہشات پر پانی پھیر دیں اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں جسمیں کسی تیسرے کی کوئی مداخلت نہ ہو۔یہ تو طے ہے کہ دونوں ممالک میں ہونے والے زیادہ تر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث خود ان کے اپنے ہیں ،پتہ یہ لگانا ہے کہ آخر ان اپنوں کی اپنائیت کو خریدنے والا کون ہے جو دونوں ممالک کے سکون واطمینان کو بھنگ کرکے انہیں آپس میں ہی برسر پیکار دیکھنا چاہتا ہے ۔تاکہ ایشیائی ممالک اس کے دست نگررہیں ،اس کے اسلحوں کی خریدوفروخت بھی جاری رہے اور موقع ملتے ہی وہ الٹا ثواب بھی حاصل کرلے ۔دونوں ممالک بہتر تعلقات کے سایےمیں آگے بڑھیں اور اسے تلاش کریں جو دونوں ہی کے لئے زحمت بنا بیٹھا ہے ۔
خون خواہ پاکستانیوں کا بہے یا ہندوستانیوں کا بہرحال اس کا رنگ ایک ہے ۔اوریہ عمل انسانیت سوز ہے اس کی مذمت کرنی چاہئے ۔لیکن اصل مذمت یہ ہے کہ عوام کو اپنے تحفظ کا یقین ہوجائے اور وہ کشمیر سے کنیا کماری تک بلاخوف وخطر امن وسکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ۔ورنہ سخت ترین الفاظ اور مذمت کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
Tuesday, 30 August 2011
NOORAIN ALI HAQUE: عید سعید کی سماجی اہمیت وافادیت
NOORAIN ALI HAQUE: عید سعید کی سماجی اہمیت وافادیت: نورین علی حق ایک ماہ کے مسلسل روزوں کے بعد اللہ تبارک وتعالی اپنے بندوں کوعیدکی شکل میںعارضی جزاعطافرماتا ہے تاکہ انہیں خوشیوں کا موقع م...
عید سعید کی سماجی اہمیت وافادیت
نورین علی حق
ایک ماہ کے مسلسل روزوں کے بعد اللہ تبارک وتعالی اپنے بندوں کوعیدکی شکل میںعارضی جزاعطافرماتا ہے تاکہ انہیں خوشیوں کا موقع ملے لیکن یہ بات بھی اسلام کے پیش نظر ہمیشہ رہتی ہے کہ امت محمدیہ کبھی بھی حد سے تجاوز نہ کرے ،منشائے خداوندی کے مطابق ہی زندگی کے ایام گزارے یہی وجہ ہے کہ خوشیوں کے مواقع پر بھی تمام غیر شرعی باتوں سے اجتناب کرنے اور معاشرہ کوساتھ لے کر چلنے کا حکم دیا گیا ہے ۔فطرے کی ادائیگی کی اصل منشا یہی ہے کہ معاشرے کے غربا بھی مین اسٹریم میں آجائیں اسلام کا نظام زکاۃ اور فطرہ نہ صرف غربا مسلمانوں کی تفریق کو مٹادینے والا ہے بلکہ اگر اس پر عمل در آمد کو یقینی بنا یا جائے تو مسلم معاشرے میں ایک بھی انسان غریب نہیں نظر آئےگا ۔
یہ ساری باتیں تو خیر داخلی سطح کی ہیں ،ان احکامات کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔لیکن اس تکثیری معاشرے میں جہاں ہم بستے اور سانسیں لیتے ہیں اس معاشرے کے بھی کچھ تقاضے ہیں جنہیں ہمیں محسوس کرنا چاہئے چوں کہ پہلی صدی ہجری کےاسلامی معاشرے نے اسے ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ پہلی صدی ہجری کے مدینہ میں بھی مسلمان دیگر مذاہب کے متبعین کو اپنی خوشیوں میں شریک کرتے تھے ،انہیں بھی بحیثیت پڑوسی ان کا حق دیا کرتے تھے ۔تاریخ اسلامی کے اوراق گواہ وشاہد ہیں کہ رسول اسلام اور متبعین اسلام تازندگی پڑوسیوں کے حقوق پر روشنی ڈالتے رہے اور جہاں کہیں موقع ملا ایسا نمونہ پیش کیاکہ اس کے بعد اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،اسلام کی عملی تاریخ ہمیںتعلیم دیتی ہے کہ ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیش کریں ،قومی یکجہتی کی عملی تصویر بن جائیں یہی منشائے دین ونبوت ہے اور یہی اسلامی اعمال پر پابندی اوراستحکام کا ایک ذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے چوں کہ جب تک ہمارے روابط دیگر مذاہب کے متبعین سے خوش گوار نہیں ہوں گے ہمیں اسلامی اعمال کی ادائیگی میں ضرور دشواریاں آئیں گی ۔اس لئے ہمارے تعلقات برادران وطن سے بہتر ہونے چاہئیں۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اسلام نے اسے سرے سے خارج از امکان قراردیا ہے ۔مگر ہم اس طرف توجہ نہیں دیتے ۔
ہم عید کے بعد عرصہ تک عید ملن کی تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں ،سیاسی پارٹیاں بھی اس میں دلچسپی لیتیہیں ،ہندوستان گیر سطح کے رہنمائوں ،وزیر اعظم ،وزرائے اعلی ،سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کی رہائش گاہوں پر عید کی مناسبت سے دعوتیںہوتیہیں ۔لیکن وہ یہ سب نہ کریں جب بھی ایک ہیں اور آئندہ بھی حصول مقصد کے لیےمتحد رہیں گے ،مسئلہ ان کے دلوں کو جوڑنے کا ہے جن کے دل بعض مواقع پر ٹوٹتے ہیں اور اس کے ذمہ دار بعض دفعہ ہمارے سیاسی رہنما ہی ہوتے ہیں ۔ایسے میں ہمارے بزرگان دین کے اعمال ہمارے لئے نمو نہ عمل بن سکتے ہیں ۔چوں کہ انہوں نے جس اندازسے ہندوستانی عوام کا دل جیتا ہے ،اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
موجودہ تناظر میں عید محض بال بچوں کے ساتھ خوشیا ں منانے کا نام نہیں ہے ۔اس کو موقع غنیمت سمجھ کر برادران وطن کے مابین زیادہ سے زیادہ اخوت ،بھائی چارگی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبات پیش کریں ۔ہندوستان میں عید کو بلا تفریق مذہب وملت منانےکی روایت ملتی ہے اور یہ روایت نہ صرف سراہے جانے کے لائق بلکہ لائق عمل بھی ہے ۔عید کے موقع کو تکثیریت پسند بنایا جانا چاہئےاس کو تبلیغ دین کا بھی ذریعہ بنایا جاسکتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہم اپنے مدعو کے ممدوح نہیں ہوں گے وہ ہماری باتیں نہیں سن سکتے ۔
ایک زمانہ تھا جب بزرگان دین کی شخصیات اتنی پر کشش تھیں کہ بلا تفریق مذاہب عوام ان کےپاس آتے تھے اور ان سے دعائیں لیتے تھے، ان سے مستفید ہوتے تھے،ان سے علوم وفنون سیکھتے تھے ،شب وروز کی مصاحبت اور ان کے اعمال وافعال اور کردار سے متاثرہوکر بالآخر اسلامی زنبیل کےقیدی ہوجاتے تھے ۔لیکن المیہ یہ ہوا کہ ان نفوس قدسیہ کے بعد ویسی موثر شخصیات کو پیدا کرنا اسلامی معاشرہ نے چھوڑ دیا دیگر اقوام کی طرح مسلمانوں کے اندر سے بھی احساس سودوزیاں جاتا رہا ۔وہ بھی خودی کھو بیٹھے اب بس نام کے وہ مسلمان تو تھے ان میں وہ عزائم وارادے نہیں تھے جن کے لئے ان کے آبا یہاں ہمیشہ معروف رہے ہیں ۔اس مستزاد یہ کہ اپنی حکومت و سلطنت کو ہمیشگی پر مبنی سمجھنے والے سلاطین نے دیگر اقوام ومذاہب کے متبعین کے دلوں میں نفرت کا شعلہ فشاں پیدا کرنےکاسبب بنے۔اس وقت تو معاملہ مسلمانوں کی سمجھ سے باہر تھا اور یہ طویل سلطنت کے خمار میں مست تھے لیکن آنے والے وقتوں میں حالات نے بتا دیا کہ اب بادشاہت ختم ہوچکی ہے اور اس ہندوستان میں اب جینا ہے تو صوفیہ کے طریقہ کار کے مطابق جینا ہوگا بصورت دیگر تمام حالات تمہارے خلاف ہوں گے ۔
بہر حال اس صورت حال کے اختتام کے لیےعید ،بقرعید ،جشن عید میلادالنبی کے مواقع کو ایام دعوت وتبلیغ کے طور پر منایا جائے اور اس میں دیگر اقوام کو اعتماد میں لیا جائے صرف مسلم محلوں کے اپنے رشتہ داروں کی سویوں،مٹھائیوں،شیرکیضیافت سےاب بات نہیں بنے گی اب مسلم محلوں سے باہر نکلنا ہوگا اور دلتوں کو گلے لگانا ہوگا ،عید کی مناسبت سے گلیوں اور چوراہوں کو صاف کرنے والوں کو عیدی سے نوازنا اور انہیں بھی گلے لگانا ہوگا تبھی بات بنے گی چوں کہ وہ آج بھی احساس کمتری میں جیتے ہیں اور اسلام نے سب سےبڑا جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ یہی ہے کہ اس نے بے سہاروں کو سہارا دیا ،معاشرے کے دبے کچلے عوام کو جینے کاطریقہ ،سلیقہ اور حوصلہ دیاانہیں اپنے وقت کے چودھریوں کے چنگل سے آزاد کرایا ۔کیا آج ہم اسوصف اسلام کو مزید مستحکم نہیں بناسکتے ؟ـ
یہ منظر دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ مسلم عوام مساجد سے نماز عید الفطر ادا کرکے نکلتے ہیں اور وہاں پرموجود لاٹھی ،ڈنڈوں سے لیس پہریدار پولیس اہلکار کو نظر انداز کرکےاپنے گھروں کی راہ لے لیتےہیں ۔حالاں کہ ان اوقات میں اگر کوئی ان کا تعلقاتی مل جاتا ہے تو وہ ان سے مصافحہ ومعانقہ کرتے ہیں لیکن وہ پولیس والوں کو اس لائق نہیں سمجھتے گو کہ اس وقت وہ مسلم محلوں میں آن ڈیوٹی ہوتے ہیں اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اس لیے اگر کوئی مسلمان ان سے معانقہ کرنا چاہے تو وہ چاہ کربھی انکار نہیں کرسکتے مگر ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ قومی بھائی ہونےکی حیثیت سے ہماری محبت اور اخوت کے حق دار یہ بھی ہیں اور انہیں ان کے حق سے محروم کرنے کاہمیں کوئی حق نہیں ۔ان سطروں کو لکھتے ہوئے مجھےاپنے بھائیوں عاطف وساجد ،عشرت جہاں ،بٹلہ ہائوس کا فرضی انکائونٹر ،گجرات فرضی انکائونٹر،گجرات فسادات اور ملک میں روارکھے جانے والے مظالم کے سینکڑوں واقعات ذہن کے پردے پر ابھررہے ہیں اور کل کی طرح آج بھی لائق مذمت اور ناقابل فراموش ہیں لیکن کیا اس کے کچھ ہم خود بھی ذمہ دار نہیں کہ آ ج کا مسلمان اپنا صحیح تعارف بھی کرانے سے قاصر ہے، رسول اعظم اور خاندان نبوت کے اکابر نے جو تاثرات قائم کئے تھے انہیں ہماری بد اعمالیوں کی نظر بد لگ گئی اوربزرگوں کا دیا ہوا بھرم بھی ہم نے سرعام نیلام کردیا ۔ایسے حالات میں عزت ووقار کی بازیافت اور بحالی کے لئے ضروری ہے کہ ہم مغلوب اور سطحی افکار و نظریات سے باہر نکلیں اور آنے والی نسلوں کو بھی سمت مخالف میں بہنے والے سمندر میں رہ کر پورےتشخص کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا درس دیں ، ہماری قومی اور ملی کامیابی یہی ہے ۔ عید کی خوشیوں سے ہندوستان کاچپہ چپہ اور اس کے تمام بسنے والےجب تک سرشار نہیں ہوں گے تب تک عید کی سماجی اہمیت و افادیت پوری طرح عیاں نہیں ہوسکتی اورنہ مسلمان اس سے بھر پور لطف اندوز ہوسکتے ہیں ۔alihaqnrn@yahoocom,9210284453
ایک ماہ کے مسلسل روزوں کے بعد اللہ تبارک وتعالی اپنے بندوں کوعیدکی شکل میںعارضی جزاعطافرماتا ہے تاکہ انہیں خوشیوں کا موقع ملے لیکن یہ بات بھی اسلام کے پیش نظر ہمیشہ رہتی ہے کہ امت محمدیہ کبھی بھی حد سے تجاوز نہ کرے ،منشائے خداوندی کے مطابق ہی زندگی کے ایام گزارے یہی وجہ ہے کہ خوشیوں کے مواقع پر بھی تمام غیر شرعی باتوں سے اجتناب کرنے اور معاشرہ کوساتھ لے کر چلنے کا حکم دیا گیا ہے ۔فطرے کی ادائیگی کی اصل منشا یہی ہے کہ معاشرے کے غربا بھی مین اسٹریم میں آجائیں اسلام کا نظام زکاۃ اور فطرہ نہ صرف غربا مسلمانوں کی تفریق کو مٹادینے والا ہے بلکہ اگر اس پر عمل در آمد کو یقینی بنا یا جائے تو مسلم معاشرے میں ایک بھی انسان غریب نہیں نظر آئےگا ۔
یہ ساری باتیں تو خیر داخلی سطح کی ہیں ،ان احکامات کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔لیکن اس تکثیری معاشرے میں جہاں ہم بستے اور سانسیں لیتے ہیں اس معاشرے کے بھی کچھ تقاضے ہیں جنہیں ہمیں محسوس کرنا چاہئے چوں کہ پہلی صدی ہجری کےاسلامی معاشرے نے اسے ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ پہلی صدی ہجری کے مدینہ میں بھی مسلمان دیگر مذاہب کے متبعین کو اپنی خوشیوں میں شریک کرتے تھے ،انہیں بھی بحیثیت پڑوسی ان کا حق دیا کرتے تھے ۔تاریخ اسلامی کے اوراق گواہ وشاہد ہیں کہ رسول اسلام اور متبعین اسلام تازندگی پڑوسیوں کے حقوق پر روشنی ڈالتے رہے اور جہاں کہیں موقع ملا ایسا نمونہ پیش کیاکہ اس کے بعد اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،اسلام کی عملی تاریخ ہمیںتعلیم دیتی ہے کہ ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیش کریں ،قومی یکجہتی کی عملی تصویر بن جائیں یہی منشائے دین ونبوت ہے اور یہی اسلامی اعمال پر پابندی اوراستحکام کا ایک ذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے چوں کہ جب تک ہمارے روابط دیگر مذاہب کے متبعین سے خوش گوار نہیں ہوں گے ہمیں اسلامی اعمال کی ادائیگی میں ضرور دشواریاں آئیں گی ۔اس لئے ہمارے تعلقات برادران وطن سے بہتر ہونے چاہئیں۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اسلام نے اسے سرے سے خارج از امکان قراردیا ہے ۔مگر ہم اس طرف توجہ نہیں دیتے ۔
ہم عید کے بعد عرصہ تک عید ملن کی تقاریب کا انعقاد کرتے ہیں ،سیاسی پارٹیاں بھی اس میں دلچسپی لیتیہیں ،ہندوستان گیر سطح کے رہنمائوں ،وزیر اعظم ،وزرائے اعلی ،سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کی رہائش گاہوں پر عید کی مناسبت سے دعوتیںہوتیہیں ۔لیکن وہ یہ سب نہ کریں جب بھی ایک ہیں اور آئندہ بھی حصول مقصد کے لیےمتحد رہیں گے ،مسئلہ ان کے دلوں کو جوڑنے کا ہے جن کے دل بعض مواقع پر ٹوٹتے ہیں اور اس کے ذمہ دار بعض دفعہ ہمارے سیاسی رہنما ہی ہوتے ہیں ۔ایسے میں ہمارے بزرگان دین کے اعمال ہمارے لئے نمو نہ عمل بن سکتے ہیں ۔چوں کہ انہوں نے جس اندازسے ہندوستانی عوام کا دل جیتا ہے ،اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
موجودہ تناظر میں عید محض بال بچوں کے ساتھ خوشیا ں منانے کا نام نہیں ہے ۔اس کو موقع غنیمت سمجھ کر برادران وطن کے مابین زیادہ سے زیادہ اخوت ،بھائی چارگی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبات پیش کریں ۔ہندوستان میں عید کو بلا تفریق مذہب وملت منانےکی روایت ملتی ہے اور یہ روایت نہ صرف سراہے جانے کے لائق بلکہ لائق عمل بھی ہے ۔عید کے موقع کو تکثیریت پسند بنایا جانا چاہئےاس کو تبلیغ دین کا بھی ذریعہ بنایا جاسکتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہم اپنے مدعو کے ممدوح نہیں ہوں گے وہ ہماری باتیں نہیں سن سکتے ۔
ایک زمانہ تھا جب بزرگان دین کی شخصیات اتنی پر کشش تھیں کہ بلا تفریق مذاہب عوام ان کےپاس آتے تھے اور ان سے دعائیں لیتے تھے، ان سے مستفید ہوتے تھے،ان سے علوم وفنون سیکھتے تھے ،شب وروز کی مصاحبت اور ان کے اعمال وافعال اور کردار سے متاثرہوکر بالآخر اسلامی زنبیل کےقیدی ہوجاتے تھے ۔لیکن المیہ یہ ہوا کہ ان نفوس قدسیہ کے بعد ویسی موثر شخصیات کو پیدا کرنا اسلامی معاشرہ نے چھوڑ دیا دیگر اقوام کی طرح مسلمانوں کے اندر سے بھی احساس سودوزیاں جاتا رہا ۔وہ بھی خودی کھو بیٹھے اب بس نام کے وہ مسلمان تو تھے ان میں وہ عزائم وارادے نہیں تھے جن کے لئے ان کے آبا یہاں ہمیشہ معروف رہے ہیں ۔اس مستزاد یہ کہ اپنی حکومت و سلطنت کو ہمیشگی پر مبنی سمجھنے والے سلاطین نے دیگر اقوام ومذاہب کے متبعین کے دلوں میں نفرت کا شعلہ فشاں پیدا کرنےکاسبب بنے۔اس وقت تو معاملہ مسلمانوں کی سمجھ سے باہر تھا اور یہ طویل سلطنت کے خمار میں مست تھے لیکن آنے والے وقتوں میں حالات نے بتا دیا کہ اب بادشاہت ختم ہوچکی ہے اور اس ہندوستان میں اب جینا ہے تو صوفیہ کے طریقہ کار کے مطابق جینا ہوگا بصورت دیگر تمام حالات تمہارے خلاف ہوں گے ۔
بہر حال اس صورت حال کے اختتام کے لیےعید ،بقرعید ،جشن عید میلادالنبی کے مواقع کو ایام دعوت وتبلیغ کے طور پر منایا جائے اور اس میں دیگر اقوام کو اعتماد میں لیا جائے صرف مسلم محلوں کے اپنے رشتہ داروں کی سویوں،مٹھائیوں،شیرکیضیافت سےاب بات نہیں بنے گی اب مسلم محلوں سے باہر نکلنا ہوگا اور دلتوں کو گلے لگانا ہوگا ،عید کی مناسبت سے گلیوں اور چوراہوں کو صاف کرنے والوں کو عیدی سے نوازنا اور انہیں بھی گلے لگانا ہوگا تبھی بات بنے گی چوں کہ وہ آج بھی احساس کمتری میں جیتے ہیں اور اسلام نے سب سےبڑا جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ یہی ہے کہ اس نے بے سہاروں کو سہارا دیا ،معاشرے کے دبے کچلے عوام کو جینے کاطریقہ ،سلیقہ اور حوصلہ دیاانہیں اپنے وقت کے چودھریوں کے چنگل سے آزاد کرایا ۔کیا آج ہم اسوصف اسلام کو مزید مستحکم نہیں بناسکتے ؟ـ
یہ منظر دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ مسلم عوام مساجد سے نماز عید الفطر ادا کرکے نکلتے ہیں اور وہاں پرموجود لاٹھی ،ڈنڈوں سے لیس پہریدار پولیس اہلکار کو نظر انداز کرکےاپنے گھروں کی راہ لے لیتےہیں ۔حالاں کہ ان اوقات میں اگر کوئی ان کا تعلقاتی مل جاتا ہے تو وہ ان سے مصافحہ ومعانقہ کرتے ہیں لیکن وہ پولیس والوں کو اس لائق نہیں سمجھتے گو کہ اس وقت وہ مسلم محلوں میں آن ڈیوٹی ہوتے ہیں اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اس لیے اگر کوئی مسلمان ان سے معانقہ کرنا چاہے تو وہ چاہ کربھی انکار نہیں کرسکتے مگر ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ قومی بھائی ہونےکی حیثیت سے ہماری محبت اور اخوت کے حق دار یہ بھی ہیں اور انہیں ان کے حق سے محروم کرنے کاہمیں کوئی حق نہیں ۔ان سطروں کو لکھتے ہوئے مجھےاپنے بھائیوں عاطف وساجد ،عشرت جہاں ،بٹلہ ہائوس کا فرضی انکائونٹر ،گجرات فرضی انکائونٹر،گجرات فسادات اور ملک میں روارکھے جانے والے مظالم کے سینکڑوں واقعات ذہن کے پردے پر ابھررہے ہیں اور کل کی طرح آج بھی لائق مذمت اور ناقابل فراموش ہیں لیکن کیا اس کے کچھ ہم خود بھی ذمہ دار نہیں کہ آ ج کا مسلمان اپنا صحیح تعارف بھی کرانے سے قاصر ہے، رسول اعظم اور خاندان نبوت کے اکابر نے جو تاثرات قائم کئے تھے انہیں ہماری بد اعمالیوں کی نظر بد لگ گئی اوربزرگوں کا دیا ہوا بھرم بھی ہم نے سرعام نیلام کردیا ۔ایسے حالات میں عزت ووقار کی بازیافت اور بحالی کے لئے ضروری ہے کہ ہم مغلوب اور سطحی افکار و نظریات سے باہر نکلیں اور آنے والی نسلوں کو بھی سمت مخالف میں بہنے والے سمندر میں رہ کر پورےتشخص کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا درس دیں ، ہماری قومی اور ملی کامیابی یہی ہے ۔ عید کی خوشیوں سے ہندوستان کاچپہ چپہ اور اس کے تمام بسنے والےجب تک سرشار نہیں ہوں گے تب تک عید کی سماجی اہمیت و افادیت پوری طرح عیاں نہیں ہوسکتی اورنہ مسلمان اس سے بھر پور لطف اندوز ہوسکتے ہیں ۔alihaqnrn@yahoocom,9210284453
Friday, 26 August 2011
مسلم ممالک کے ناگفتہ بہ حالات اور سربراہوں کی چنگیزیت
نورین علی حق
دنیا کے جس خطے میں مسلمان بستے ہیں وہاں کی موجودہ صورت حال ناگفتہ بہ ہے ۔اس حقیقت کے برملا اعتراف کے طور پر مجھے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ معاصرمسلم دنیاکا منظر نامہ یہ ہے کہ جہاں کہیں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور وہ برسر اقدار ہیں وہاں وہ آپس میں ہی بر سر پیکار بھی ہیں اور جہاں وہ اقلیت کے طور پر زندگی بسر کررہے ہیں وہاں ان کے ساتھ ناانصافیاں روا رکھی جارہی ہیں ۔ انہیں کسی بھی طرح مین اسٹریم سے کاٹنے کی حتی الممکنات کوششیں کی جارہی ہیں ۔اور مغربی دنیا اپنے ان ناپاک عزائم کو یقینی بنانے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہے ۔قابل ذکر یہ ہے کہ اس میں بھی خود مسلمانوں کی سادہ لوحی ،جذباتیت پسندی ،تفہیم مسائل سے دوری ،عجلت پسندی کو بڑا دخل ہے ۔ انہی کمزوریوں کا یورپ ناجائز فائدہ اٹھا تا ہے اور جب مسلمانوں کو اس کادیر سویر ادراک ہوجاتا ہے تو وہ سڑکوں پر اتر کر مظاہرہ کرنا شروع کردیتے ہیں ،گوکہ اس میں مسلم عوام کچلے جاتے ہیں اور ان کے قائدین دین وملت مورچہ کھول کر منظر سے پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور عوام بے چارے اپنے سینے گولیوں سے چھلنی کرتے ہیں یہ پوری تاریخ ہے ۔اگر اس تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو کوئی بھی ذی عقل یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس طریقہ کی ایجاد یزید بن معاویہ سے ہوتی ہےجو میدان کربلا سے بذات خود دور تھا ۔آج پھر وہی طریقے اپنائے جارہے ہیں ،جس کی چھوٹی سی مثال لال مسجد ،پاکستان کی دی جاسکتی ہے کہ وہاں بھی قائدین منظر سے غائب تھے اور طلبہ کے سینے فوجیوں کی گولیوں سے چھلنی ہورہے تھے ۔ایسا ہی کچھ عراق میں ہوا کہ عام فوجی اور عوام امریکا کا نشانہ بنتے رہے اور خود صدر محترم ایک کوہ سے ملے ۔بعد میں مصر اور اسی ڈگر پر فی الوقت لیبیااورشام بھی ہیں ۔جہاں پورے وثوق سے اعلان کیا جارہا ہے کہ معمر قذافی اور ان کے صاحب زادے محفوظ اور باغیوں کی پکڑ سے دور ہیں حالاں کہ یہ اعلان ہی چغلی کھا رہا ہے کہ لیبیا زیادہ تر معمر کے قبضہ سے نکل چکا ہے اور اب خود وہاں کے سربراہ کو جان کے لالے پڑے ہیں ،انہیں چھپنےکی ضرورت محسوس ہورہی ہے ان تمام درگتوں کے باوجود انہیں یہ توفیق نہیں ہورہی ہے کہ باغیوں کے مطالبے کوقبول کرکے مغرب کے خواب کو شرمندہ تعبیرنہ ہونےدیں ۔ تاکہ آئندہ بھی لیبیا مغرب کی راست مداخلت سے محفوظ رہ سکے۔ اب تو حالات نازک ہوچکے ہیں اور مغرب کو توڑواور حکومت کرو کی حکمت عملی اختیار کرنے کا پورا موقع مل چکا ہے اب انہیں لیبیا میں اپنی چشم وابرو کے اشاروں پر ناچنے والے حکمراں کو کرسی اقتدار سونپنے سے کون روک سکتا ہے ؟بعد میں لیبیا کی نشاۃ ثانیہ کے نام پر جوکچھ ہو گا اس سے بھی دانش وران خوب اچھی طرح واقف ہیں ۔آج باغیوں کو پوشیدہ طور پر قذافی کے خلاف ابھا رااور اکسایا جارہا ہے اور انہیں تعاون بھی کیا جارہا ہے ۔
لیکن جب قذافی سے باغی شکست کھا جائیں گے یا فتح حاصل کرلیں گے دونوں ہی صورت میںباگ ڈور بالآخر امریکا اور اس کے ہم نوائوں کے ہاتھوں میں جانی ہے چوں کہ اگر باغی ہارتے ہیں تو ان کے تعاون اورعوامی خواہشات کے نام پر امریکا لیبیا کے داخلی معاملات میں مداخلت کرےگا اور اگر باغی جیت جاتے ہیں تو وہاں معاہدوں اور تجارتی تبادلے کے نام پر پہنچ کر وہاں کی اقتصادیا ت کو توڑنے اور کمزور کرنے کا موقع ملے گا ۔ اس طور وہ لیبیا کولوٹنے میں کامیاب ہوسکیں گے ۔اس صورت حال سے نپٹنے کے لئے ضروری تھاکہ مرض کے لاعلاجہونے اور ناسور بننےسے قبل اسلام کے شورائی نظام کو پیش نظررکھ کر انتخابات کرادینے چاہیئں اگر ایسا ہوتا تو آج اس قدر حالات خراب نہیں ہوتے کہ خود مسلمان مسلمانوں کے خون کے پیاسے نظر آرہے ہیں ۔
ایسی صورت حال کا سامنا عالم اسلام کو ہر اس موقع پر کرنا پڑا ہے ۔جب جب اقتدار کے لالچی اور قرآنی واسلامی شورائی نظام کو طاق نسیاں کی زینت بنا کر حکومت کرنے والے افراد غالب ہوجاتے ہیں ۔اسلامی ممالک پرخلفائے راشدہ کے بعد زیادہ تر انہی غیر قرآنی نظام کی بالا دستی رہی ہے ۔اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ خلفائے راشدہ کے بعد ہر زمانے میں عیسائیوںویہودیوں کو مسلمانوں کے اندر بغاوت کا جذبہ پیدا کرنے کے بھر مواقع ملتے رہے ہیں ۔اسلامی اقتدار کے مالک کبھی عیسائی شاعر اخطل کے ساتھ شراب نوشی کرتے دیکھے گئے ہیں تو کبھی لارینس آف عربیہ عثمانی حکومت کے خاتمہ کے لئے مشورے دیتے نظر آئے ہیں آج کی موجودہ صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ عمومی طور پر تمام سربراہان مملکت اسلامیہ مغرب زدہ اور تمدن مغرب کو اپنے لئے لائق عمل سمجھتے ہیں اب ان کے لئے اسلامی اعمال ،تہذیب وتمدن،اخلاق،اطوار،آداب سب کچھ لائق شرم وعار ہوچکے ہیں ،ان کےلئے ان باتوں میں کوئی کشش نہیں ہے ۔ان کا علاج ،ان کی سیاحت ،ان کے بچوں کی تعلیم مغرب میں ہوتی ہے چوں کہ اسلامی تعلیمات اوراس کا طریقہ تعلیم ان کے بچوں کے قابل نہیں رہا ۔مرعوبیت ان کے رگ وریشے میں رچ بس گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وہاں مالس ،فلم ہالز ،مغربی ماڈل گاڑیاں ،مغربی طرز تعمیر سے مزین عمارتیں، مغربی لباس تیارتو کئے جارہے ہیں ۔لیکن انہیں حکومت سازی اور اقتدار کی بحالی کے لئے اسلامی طریقے یاد نہیں آتے ۔حکومتوں اور حکومتی افراد کے لئے اسلام نے جو شرائط مقرر کی ہیں ،عوام کی خوش حالی ،اقتصادی بالاتری کے لئے انہیں اس کی چنداں فکر نہیںہوتی ۔نباض ملت اقبال نے کبھی کہا تھاکہ
نظام پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
آج ہر طرف یہی صورت حا ل پیدا ہوچکی ہے ۔دونوں ہی نظام کے تحت چلنے والی حکومتیں اسلام اور دین سے بیزار ہوچکی ہیں ۔حیرت یہ ہوتی ہے کہ آج کے اس زوال آمادہ زمانےمیں بھی اسلامیان دنیا کو خلفائے راشدین اور ان کی صاف وشفاف حکومتیں یاد نہیں آتیں ،انہیں جو حکومتیں متاثر کرتی ہیں ،ان کے بارے میں جمہور علما کا اتفاق ہے کہ وہ سلطنتیںتھیں ۔اسلامی نظام اسے قرار نہیں دیا جاسکتا ۔اور یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ چنگیزیت کا دور دورہ ہے ۔عوام ایک تانا شاہ سربراہ کی تانا شاہی سے بور ہوچکے ہیں اور وہ اس عذاب الہی سے خود کو دور کرنا چاہتے ہیں ۔وہ ایک ماڈل نظام کے خواہاں ہیں ۔جس کے حصول کی ناکامی اور تصور کے خلاف حکومتی امور انجام دیے جاتے ہیں تو وہ سڑکوں پر اتر آتے ہیں ۔اسلامی ممالک کے حوالہ سے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہاں کی اکثریت کبھی بھی گمراہیوں اور بے دینیوں پر اتفاق نہیں کرسکتی اور جب تک مسلم ممالک کا قبلہ درست نہیں ہوجاتا تب تک اس طرح کے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔ مسلم ممالک میں جاری باغی سیلاب میں ہزاروں کی تعداد میں عوام بہہ چکے ہیں ،وہاں کی زمین عوام کے خون ناحق سے رنگین ہوچکی ہے لیکن سربراہوں کو اس کی فکر نہیں ہے اور یہی بے فکری اور بربریت ان کی نیا ڈبوئے گی ۔
alihaqnrn@yahoo.com
Subscribe to:
Posts (Atom)